اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی اور خلیج فارس میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امن کے نوبل انعام کے نہیں بلکہ خطے میں جنگی ماحول پیدا کرنے کے مستحق ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی حمایت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن پالیسی ہے کہ ایک ایسا شخص، جس نے 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی اور اب ایران پر جنگ مسلط کرکے نئے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے، اسے امن کا علمبردار قرار دیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال پر بھی امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے صہیونی رژیم کے ساتھ مل کر غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام میں معاونت کی، جبکہ اسرائیل کو مالی اور عسکری حمایت فراہم کرکے خطے میں جنگ کو مزید وسعت دی گئی، جس کے اثرات ایران تک پہنچے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، گزشتہ برس بھارت اور پاکستان کے درمیان محدود کشیدگی اور واشنگٹن و نئی دہلی کے درمیان تجارتی اختلافات کے بعد اسلام آباد نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں تیز کیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کی تعریف اور انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیے جانے کے اقدامات سامنے آئے، تاہم ملک کے اندر اس پالیسی پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ